لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ

Holi-Kalima-Urdu

پہلا کلمہ کیا ہے؟

پہلا کلمہ جسے کلمہ توحید بھی کہتے ہیں، اس کا اقرار کر لینا اسلام میں داخل ہو جانا ہے، گویا کہ یہ اسلام میں داخل ہونے کا راستہ ہے، اس کے دو حصے ہیں، پہلے حصے میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار ہے اور دوسرے حصے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار ہے۔

پہلے کلمے کا مطلب کیا ہے؟

یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، بہت بڑا احسان ہے، جسے چاہتا ہے اس نعمت سے نواز دیتا ہے، یہ ہی کلمہ ہے جسے بول کر ایک غیر مسلم مسلمان ہو جاتا ہے، اور اگر جب تک کوئی شخص واضح طور پر اس کا اقرار نہ کرے وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا، اسے مسلمان نہیں کہا جا سکتا۔

پہلے کلمے کا مطلب سمجھنا کیوں ضروری ہے؟

 کلمہ توحید کا معنی جاننا، اس کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا لازمی ہے، اسی کلمہ کی وجہ سے لوگوں کو مسلم اور غیر مسلم کہا جاتا ہے، یہی تمام اعمال کی بنیاد ہے، اس کا اقرار کرتے وقت انسان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ کس چیز کا اقرار کر رہا ہے۔

لا الہ الا اللہ کا مطلب کیا ہے؟

 جب کوئی کلمہ توحید یا کلمہ طیبہ کا اقرار کرتا ہے اس کو زبان سے ادا کرتا ہے تو گویا کہ وہ اس بات کا اقرار کر رہا ہوتا ہے کہ عبادت صرف اور صرف اللہ کی ہے، وہی معبود برحق ہے، اس کے علاوہ تمام معبود باطلہ ہیں، ہر قسم کے نفع و نقصان کا مالک وہی ہے، اسی کے ہاتھ میں رزق ہے، وہی زندگی دینے والا ہے اور وہی موت دینے والا، تمام کے تمام اختیارات اسی کے ہاتھ میں ہیں،

اسے اس بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے، وہ یہ کلمہ کہنے میں مخلص ہو۔ یہ کلمہ کہنے سے وہ اس بات کا اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ وہ اپنے عمل سے اسے ثابت کرے گا، کہ اس کی زندگی اب اس کلمے کے اصولوں کے مطابق خوشی سے گزرے گی، اس کی زندگی مکمل طور پر اس کلمے کی تابعداری میں گزرے گی اور وہ سب کچھ دل سے قبول کرے گا۔

یعنی جب بندہ اس کلمے کا اقرار کر لیتا ہے تو وہ اپنی ذات کو صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے خاص کر لیتا ہے اور اپنے معاملات کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔

اس کلمے کا دوسرا حصہ

اس کلمے کے دوسرے حصے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم رسالت کا اقرار ہے، یہ کہتے ہوئے انسان اس بات کا اقرار کر رہا ہوتا ہے کہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب اللہ کے بندے، اس کے آخری رسول ہیں، آپ کے بعد کسی اور نبی نے نہیں آنا

، اور ساتھ میں اس چیز کا اقرار کر رہا ہوتا ہے کہ ان کی کہی ہوئی ہر بات سچی ہے، اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں ہے، وہ ہر بات اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم سے کہتے ہیں، میں نے اپنی زندگی آپؑ کی بیان کردہ ہدایات کی روشنی میں گزارنی ہے، جن چیزوں سے آپ نے منع کر دیا ہے ان سے رک جانا ہے اور جن چیزوں کا آپ نے حکم دیا ہے ان پر عمل کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادت آپ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہی کرنی ہے۔

اسلام میں کیسے داخل ہوا جا سکتا ہے؟

جو شخص بھی اسلام میں داخل ہونا چاہتا ہے  اسے چاہیے کہ وہ اس کلمے کو سمجھ کر اس کا اپنی زبان سے اقرار کرے اور اسی کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کا عہد کرے۔

حاصل کلام

اوپر بیان کردہ مفہوم سے آپ پر یہ واضح ہو گیا ہو گا کہ یہ کلمہ اصل میں اللہ اور بندے کے درمیان ایک عہد ہے، جس میں ہم اللہ تبارک وتعالیٰ کو اپنا مالک اور خود اس کے غلام ہونے کا اقرار کر رہے ہوتے ہیں کہ اے اللہ تو ہمارا آقا ہے اور ہم تیرے غلام ہیں، ہماری زندگی تیری ہی عطا کی ہوئی ہے تو ہم اس کو تیرے ہی حکم کے مطابق، تیرے بھیجے ہوئے نبی کی دی ہوئی ہدایات کی روشنی میں ہی بسر کریں گے۔

جس نے بھی اس کلمے کے معنی و مفہوم کو سمجھ کر اس کے تقاضے پر عمل کیا تو یقینا وہ حقیقی مسلمان ہے اور جنت میں داخل ہو گا۔

The best among you are those who learn the Qur’an and teach it.
School For Quran Learning an Easy and Simple Way To Learn At Your Place.

Copyright © SchoolForQuranLearning.com All rights reserved

Open chat
Assalam o Alikum
We Are Here to Help you